NEWS

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے آبی نظام کو شد ید متاثر کردیا ہے
HALEJI LAKE ACCOUNTABILITY LAB

IN BRIEF

Once a glittering sanctuary for Siberian migratory birds, Haleji Lake Pakistan’s first man-made reservoir is now grappling with a severe ecological crisis. With freshwater inflows from the Indus River halted since 2018, the Ramsar-certified wetland has shrunk into a stagnant, polluted water body, triggering a sharp decline in bird populations along the Indus Flyway. Even though the lake remains home to Pakistan’s largest crocodile population, experts warn that without restoring natural water flows and addressing habitat degradation, Haleji’s fragile ecosystem may face irreversible damage.

SHARE

موسمیاتی تبدیلی اور تازہ پانی کی کمی نے پاکستان کے آبی نظام کو شد ید متاثر کیا ہے ۔یہ با ت آب گاہوں کا عالمی دن کی مناسبت سے ، اکاﺅنٹیبیلیٹی لیب پاکستان ،گرین میڈیا انیشیٹوز اور وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے منعقدہ سیمینارمیں ماہرین نے کہی۔ماہرین نے بتایا کہ ویٹ لینڈ زایسی آبی زمینوں یا ایسے قطعہ زمین کو کہتے ہیں جن کی سطح گیلی ہو جہاں پانی مصنوعی یا قدرتی طور پر موجود ہو. ایسی زمین تازہ پانی کا چشمہ بھی ہوسکتی ہے ، اس میں سمندر کے کنارے موجود وہ زمین بھی ہو سکتی ہے جس کی گہرائی 6 میٹر تک ہو۔

ایکو لوجسٹ رفیع الحق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 250 واٹر باڈیز اہمیت کی حامل ہیں جن میں 19 واٹر باڈیز ایسی ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے تاہم پاکستان میں واٹر باڈیز کی صورتحال تشویشناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آب گاہوں کو سب سے بڑے خطرات میں موسمیاتی تبدیلی، دریاؤں میں پانی کے قدرتی بہاؤ میں کمی، صنعتی و زرعی فضلے کا اخراج، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اور ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی کٹائی شامل ہیں۔ٹھٹھہ کی ہالیجی جھیل بھی ایک اہم آب گاہ کے طور پر جانی جاتی ہے ،جو کراچی سے 82 کلومیٹر اور ٹھٹھہ سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایشیا میں پرندوں کی سب سے بڑی محفوظ پناہ گاہ ہے، جہاں 200 سے زائد پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہالیجی جھیل کو دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی حکام نے محفوظ ذخیرہ آب کے طور پر تعمیر کیا تھا۔

دیگرماہرین نے کہا کہ پاکستان میں چند رامسر سائٹس ہیں، جن میں اچھالی جھیل، بدین کی نریڑی جھیل بھی شامل ہیں ، لیکن وہاں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ماہی گیروں کا روزگار متاثر ہو رہا ہےپاکستان میں رامسر سائٹس کی حفاظت کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ورلڈ ویٹ لینڈ ڈے کے موقع پر آبگاہوں کے تحفظ اور بحالی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے کم لاگت اور مو¿ثر قدرتی حل قرار دیا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے چھوٹے ڈیمز بنانا مستقبل کے لئے اہم ہے،ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ویٹ لینڈ کے تحفظ سے جیتی جا سکتی ہے۔فضا میں کاربن کو ختم کرنے کے لئے درخت اور پانی کے ذخائر کے کنارے ویٹ لینڈ کا تحفظ کرنا ضروری ہے یہ صرف پانی، جھیلیں اور کشتیاں نہیں یہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں، درخت اور ویٹ لینڈ سب سے بڑے قدرتی کاربن سنکس ہیں۔

About the Author:

This blog is written by Shazia Arshad.

Note: This blog was originally published on Kehdopak on February 5th, 2026 and can be accessed here.

Share This Story, Choose Your Platform!

SIGN UP FOR OUR MONTHLY NEWSLETTER

Newsletter Signup