NEWS

آب گاہوں کا عالمی دن۔ پاکستان کے قدرتی دفاع کو بچانے کا دن
HALEJI LAKE ACCOUNTABILITY LAB

IN BRIEF

Once a glittering sanctuary for Siberian migratory birds, Haleji Lake Pakistan’s first man-made reservoir is now grappling with a severe ecological crisis. With freshwater inflows from the Indus River halted since 2018, the Ramsar-certified wetland has shrunk into a stagnant, polluted water body, triggering a sharp decline in bird populations along the Indus Flyway. Even though the lake remains home to Pakistan’s largest crocodile population, experts warn that without restoring natural water flows and addressing habitat degradation, Haleji’s fragile ecosystem may face irreversible damage.

SHARE

دنیا بھر میں ہر سال 2 فروری کو آب گاہوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ آب گاہیں محض پانی سے بھرے میدان نہیں بلکہ انسانی بقا، ماحولیاتی توازن، معیشت اور موسمیاتی تحفظ کی بنیاد ہیں۔ یہ دن ہمیں رامسر کنونشن 1971 کی یاد دلاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر کی آب گاہوں کا تحفظ اور ان کا دانشمندانہ استعمال ہے۔ بدقسمتی سے آج یہی آب گاہیں دنیا کی سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے قدرتی وسائل بن چکی ہیں۔ پاکستان میں اگر کسی کی کہانی تاریخ، ماحول، جنگ، پانی، پرندوں اور موسمیاتی تبدیلی سب کو جوڑتی ہے تو وہ ہے ہالیجی جھیل۔

ویٹ لینڈز یا آب گاہیں کیا ہیں؟

آب گاہیں وہ زمینیں ہوتی ہیں جہاں پانی مستقل یا عارضی طور پر موجود رہتا ہے۔ یہ پانی کبھی میٹھا، کبھی کھارا، یا کبھی نمکین بھی ہو سکتا ہے۔ آب گاہوں میں جھیلیں، تالاب، دلدل، دریاؤں کے کنارے، مینگرووز، ساحلی دلدلی علاقے، نشیبی جھیل نما زمینیں شامل ہوتی ہیں۔ یہ علاقے زمین اور پانی کے درمیان قدرتی پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اور آب گاہیں ہزاروں اقسام کے پودے، مچھلیوں، جانوروں اور پرندوں کا مسکن بھی ہوتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں مہاجر پرندے سائبیریا اور وسطی ایشیا سے انہی علاقوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ یہ علاقے قدرتی طور پر گندے پانی کو صاف کرتے ہیں اور زیرِ زمین پانی کو محفوظ بناتے ہیں۔ اضافی پانی کو جذب کر کے سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں۔ جو پاکستان جیسے موسمیاتی طور پر غیر محفوظ ملک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آب گاہیں کاربن جذب کرتے ہیں، گرین ہاؤس گیسز کے اثرات کم کرتے ہیں اور درجہ حرارت کے توازن میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

ہالیجی جھیل سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے، جو کراچی سے 43 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 1930 سے پہلے یہ ایک کھاری اور نمکین جھیل تھی۔ دوسری جنگِ عظیم سے 1943 کے دوران، جب امریکی اور برطانوی فوجی کراچی میں ٹھہرے تو، 1940 میں شہر کو شدید پانی کی قلت کا سامنا تھا۔ برطانوی حکومتِ نے ہالیجی جھیل سے نمکین پانی نکالا اور مضبوط پشتے بنائے، اور یوں دریائے سندھ سے کینجھر جھیل کے ذریعے نہر بنائی گی جس سے صرف 24 ماہ مطلب 2 سال میں ہالیجی کو میٹھے پانی کے ذخیرے میں بدل دیا گیا۔ جس کا مقصد کراچی کو پپری کے ذریعے پانی فراہم کرنا تھا۔

1971 میں ہالیجی جھیل کو وائلڈ لائف سینکچری قرار دیا گیا۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے نگران سہیل کھوسہ کے مطابق ہالیجی جھیل کی موجودہ حالت اس کو لاحق سنگین مسائل کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جھیل میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے مہاجر پرندوں کے لیے خوراک کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب اکتوبر سے فروری تک سائبیریا سے آنے والے پرندوں کی بڑی تعداد یہاں قیام کرتی تھی، اسی وجہ سے اسے محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ اگر جھیل میں دوبارہ میٹھے پانی کی فراہمی ممکن ہو جائے تو نہ صرف پرندوں کی واپسی بلکہ اس ماحولیاتی نظام کی بحالی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

آج جب بارشیں غیر متوقع ہوتی ہیں، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، سیلاب اور خشک سالی ساتھ ساتھ آ رہے ہیں تو ہالیجی جیسی جھیلیں قدرتی دفاع، پانی کا ذخیرہ، حیاتیاتی پناہ گاہ ایک بہت اچھی جگہ بن سکتی ہے۔ ویٹ لینڈ پالیسی ساز رفیع الحق کا کہنا ہے کہ ہالیجی جھیل کبھی مہاجر پرندوں اور آبی حیات سے بھرپور ایک زندہ ماحولیاتی نظام تھی، جہاں پرندوں کے جھنڈ معمول کا منظر ہوا کرتے تھے۔ آج اس جھیل کو درپیش سب سے بڑا چیلنج میٹھے پانی کی قلت ہے، جس نے اس کے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ باہمی ربط کی کمی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ہالیجی جھیل محض ایک آب گاہ نہیں بلکہ ایک قدرتی ڈیم ہے جو ملک کو کئی ماحولیاتی خطرات سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قدرتی ویٹ لینڈز کو نظرانداز کر کے مصنوعی ذخائر کی طرف جانا ماحول اور وسائل دونوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ یہ جھیل برسوں تک کراچی کو بغیر کسی اضافی لاگت کے قدرتی طور پر صاف شدہ پانی فراہم کرتی رہی، جو اس کے ماحولیاتی کردار کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ماضی میں میٹھے پانی کی دستیابی سے یہاں مچھلی کی وافر مقدار پائی جاتی تھی، مگر اب پانی کی کمی نے نہ صرف آبی حیات بلکہ پورے سپلائی نظام کو بھی متاثر کر دیا ہے۔

سینئر ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز کے مطابق آب گاہوں کی بقا کا انحصار تازہ پانی کی مسلسل اور مناسب فراہمی پر ہوتا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اگر اس جھیل کو دو ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جائے تو اس میں دوبارہ زندگی لوٹ سکتی ہے۔ تازہ پانی کی آمد سے پانی میں آکسیجن کی حل پذیری میں چار فیصد سے زائد اضافہ ممکن ہے، جو آبی حیات کے لیے نہایت اہم ہے۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ماحولیاتی تباہی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ انڈس ڈیلٹا میں واقع آخری گاؤں، شیخ کیریو، میں پانی کی شدید قلت اس مسئلے کا واضح ثبوت ہے، جہاں میٹھے پانی کی عدم دستیابی نے مقامی آبادی اور ماحول دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

آب گاہیں صرف پانی والی زمینیں نہیں، یہ ہماری سانس، خوراک، روزگار اور مستقبل ہیں۔ ہالیجی جھیل ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب انسان چاہے، تو تباہی کو تحفظ میں بدل سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کے مستقبل میں پانی کی فراہمی کریں، اگر ہم نے آج انہیں محفوظ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ عالمی آب گاہوں کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساٹھ ہمارا رشتہ صرف استعمال کا نہیں بلکہ حفاظت کا بھی ہے۔

About the Author:

This blog is written by Shaffaq Nizam.

Note: This blog was originally published on Humsub on February 2nd, 2026 and can be accessed here.

Share This Story, Choose Your Platform!

SIGN UP FOR OUR MONTHLY NEWSLETTER

Newsletter Signup